صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟

 دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟



تعارف

دل کا دورہ ایک جان لیوا بیماری ہے جو پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ ماضی میں یہ بیماری زیادہ تر بڑی عمر کے افراد میں دیکھی جاتی تھی، لیکن اب نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کل دل کے دورے کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟ اس مضمون میں ہم اس کے اسباب، علامات، روک تھام اور علاج کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔


دل کے حملے کی بڑھتی ہوئی شرح کے اسباب

1. غیر متوازن خوراک

آج کے دور میں فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ، چکنائی اور کولیسٹرول سے بھرپور غذا کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ یہ غذائیں شریانوں کو بند کرنے کا سبب بنتی ہیں، جو آخر کار دل کے دورے کی وجہ بنتی ہیں۔

2. جسمانی سرگرمی میں کمی

مشینی دور میں لوگ جسمانی سرگرمیوں سے دور ہو گئے ہیں۔ پہلے لوگ زیادہ پیدل چلتے، کھیلتے اور محنت کے کام کرتے تھے، لیکن اب زیادہ تر لوگ بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

3. ذہنی دباؤ اور ڈپریشن

ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کا براہ راست اثر دل پر پڑتا ہے۔ آج کے دور میں نوکری کا دباؤ، مالی مسائل، اور ذاتی زندگی کے مسائل کی وجہ سے لوگوں میں ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے، جو دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

4. نیند کی کمی

نیند کا کم ہونا دل کی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جو لوگ روزانہ 6-8 گھنٹے کی نیند نہیں لیتے، ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

5. تمباکو نوشی اور شراب نوشی

سگریٹ نوشی اور شراب کا استعمال دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تمباکو شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

6. ہائی بلڈ پریشر اور شوگر

بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں میں دل کے دورے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ چکنائی والی غذا، نمک کا زیادہ استعمال اور ورزش کی کمی بلڈ پریشر اور شوگر کو بڑھا دیتی ہے، جو دل کی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

7. جینیاتی اور موروثی عوامل

اگر کسی کے خاندان میں ہارٹ اٹیک کی ہسٹری موجود ہو تو ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جینیاتی اثرات بھی دل کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


دل کے حملے کی علامات

ہارٹ اٹیک سے پہلے کچھ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جنہیں وقت پر پہچاننا بہت ضروری ہے۔

سینے میں شدید درد یا دباؤ

بازو، گردن، یا جبڑے میں درد

سانس لینے میں دشواری

بہت زیادہ پسینہ آنا

چکر آنا اور بے ہوشی

متلی یا الٹی آنا

بے چینی یا گھبراہٹ محسوس کرنا

اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


دل کے حملے سے بچاؤ کے طریقے

1. صحت مند خوراک کا استعمال

سبزیاں، پھل، مچھلی اور خشک میوہ جات کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔

چکنائی، نمک اور چینی کا کم استعمال کریں۔

پانی زیادہ پئیں اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔

2. روزانہ ورزش کریں

روزانہ 30 سے 40 منٹ کی واک کریں۔

یوگا اور میڈیٹیشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

موٹاپے سے بچنے کے لیے جسمانی سرگرمی کو بڑھائیں۔

3. ذہنی دباؤ سے بچیں

مثبت سوچ اپنائیں اور خوش رہنے کی کوشش کریں۔

روزانہ کچھ وقت اپنے پسندیدہ مشغلوں میں گزاریں۔

نیند پوری کریں اور آرام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

4. تمباکو نوشی اور شراب نوشی چھوڑ دیں

سگریٹ اور شراب کے استعمال سے پرہیز کریں۔

اگر ان عادات کو چھوڑنا مشکل ہو تو کسی ماہر سے مشورہ کریں۔

5. طبی معائنے کرواتے رہیں

بلڈ پریشر اور شوگر کو چیک کرواتے رہیں۔

اگر خاندان میں دل کے امراض کی ہسٹری ہو تو ڈاکٹر سے باقاعدگی سے رجوع کریں۔


دل کے حملے کی صورت میں کیا کریں؟

اگر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:

مریض کو آرام دہ پوزیشن میں لٹائیں۔

فوری طور پر ایمبولینس کو کال کریں۔

اگر مریض کو پہلے سے دل کی بیماری ہے اور ڈاکٹر نے اسپرین دی ہوئی ہے تو اسپرین چبانے کو کہیں۔

مریض کو گہری سانسیں لینے کو کہیں تاکہ آکسیجن کی مقدار زیادہ ہو۔

اگر مریض بے ہوش ہو جائے اور سانس نہ لے رہا ہو تو CPR کریں۔


نتیجہ

دل کے حملے کی بڑھتی ہوئی شرح ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کی بڑی وجوہات غیر متوازن خوراک، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور تمباکو نوشی ہیں۔ تاہم، اگر ہم صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، متوازن خوراک کھائیں، روزانہ ورزش کریں اور ذہنی دباؤ کو کم کریں، تو ہم دل کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ وقت پر علاج سے جان بچائی جا سکتی ہے۔

اتوار، 18 اپریل، 2021

ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک کی پیمائش ٹن میں کیوں کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟

 


ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک کی پیمائش ٹن میں کیوں کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟




پاکستان میں گرمی آ نہیں رہی بلکہ آچکی ھے اور آپ میں سے بہت سے دوست گھروں میں نئے اے-سی لگانے کا پلان کر رھے ھوں گے۔

جب آپ مارکیٹ جائیں گے تو اے-سی کے بارے پوچھنے پر دکاندار آپ سے سوال کرے گا کہ، جناب ۔۔۔! آپ کو کتنے ٹن والا (اے سی) درکار ھے؟ ایک, ڈیڑھ یا دو ٹن وغیرہ۔


آج کی اس تحریر سے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ (اے-سی) کی ٹھنڈک کی پیمائش ٹن میں کیوں کی جاتی ہے حالانکہ یہ تو وزن کی اکائی ھے۔


قصہ اصل میں یہ ہے کہ۔۔۔

ائیرکنڈیشنر  (اے-سی) کی ٹھنڈک کی پیمائش کیلئے ٹن کی اکائی استعمال کرنے کے پیچھے دلچسپ تاریخ ہے۔ قدیم دور میں جب ائیرکنڈیشنر جیسی ٹیکنالوجی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا تو گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے برف کا استعمال کیا جاتا تھا۔ دور دراز پہاڑوں سے لائی جانیوالی اس برف کو امراءکے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ برف ٹنوں کے حساب سے لائی جاتی تھی، لہٰذا ٹھنڈک کی پیمائش بھی ٹنوں میں کی جانے لگی۔


ایک ٹن کے ائیرکنڈیشنر سے مراد ایک ایسا ائیرکنڈیشنر ہے جو فی گھنٹہ 12000 برٹش تھرمل یونٹ (بی۔ٹی۔یو 

حرارت آپ کے کمرے سے نکال سکتا ہے۔ ایک بی ٹی یو سے مراد اتنی حرارت ہے جو ماچس کی ایک تیلی کو مکمل طور پر جلائے جانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔


اگر آپ کے پاس ایک ٹن برف ہو تو اسے مکمل طور پر پگھلنے کیلئے 288000بی ٹی یو حرارت کی ضرورت ہو گی ۔اگر ایک ٹن برف 24 گھنٹے میں مکمل طور پر پگھلانا ہو تو اسے 288000 بی ٹی یو حرارت 24 گھنٹے کے درمیان فراہم کر نا ہو گی، جو کہ فی گھنٹہ تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو بنتی ہے۔


اس حساب سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا ایک ٹن کا اے-سی ایک گھنٹے میں تقریباً 12 ہزار بی ٹی یو حرارت کو کمرے سے نکال باہر کرتا ہے-


یہی وہ کلیہ ہے جس کے تحت جب ایئر کنڈیشن ایجاد ہوئے تو ان کی ٹھنڈک کی پیمائش کرنے لیے ہوا ناپنے کے کسی یونٹ کے بجائے ٹن کا یونٹ استعمال کیا جانے لگا۔


1.0 ton = 12000 BTU/HR

1.5 ton = 18000 BTU/ HR

2.0 ton = 24000 BTU/HR


اب تھوڑی سی معلومات اس بارے کہ کتنے روم سائز کیلیئے کتنے ٹن کا اے۔سی خریدنا چاہئے۔

اس کیلئے کمرے کا کیوبک فیٹ سائز معلوم کر لیں۔

یعنی۔

لمبائی X چوڑائی X اونچائی

فرض کریں۔۔کہ، کمرے کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی سب 10 فٹ ھے تو اس حساب سے کمرے کا سائز 1000 کیوبک فیٹ بنےگا۔

اس فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کمرے جس میں اے۔سی لگانا ھو اس کا سائز معلوم کر لیں۔۔۔۔

اب روم کیوبک فیٹ سائز اور اے۔سی کتنے ٹن کا ہونا چاھیے۔۔۔۔

800 کیوبک فیٹ تک = 0.75 ٹن اے-سی

800 تا 1100 کیوبک فیٹ= 1 ٹن اے۔سی

1100 تا 1600 کیوبک فیٹ= 1.5 ٹن 

1600 تا 2000 کیوبک فیٹ= 2.0 ٹن

اتوار، 4 اپریل، 2021

corona virus ka khatma دھوپ سے کرونا وائرس کا خاتمہ ممکن مگر کیسے۔۔۔؟



دھوپ سے کورونا وائرس کا خاتمہ، سابقہ اندازوں ۔سے 8 گنا تیزرفتار




کیلیفورنیا: ماہرین کی ایک عالمی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ دھوپ سے کورونا وائرس کا خاتمہ ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ تیزی سے ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ اس بارے میں فی الحال ہم کچھ نہیں جانتے۔
بتاتے چلیں کہ گزشتہ سال دو الگ الگ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ دھوپ میں شامل بالائے بنفشی (الٹراوائیلٹ) شعاعیں 10 سے 20 منٹ میں کورونا وائرس کا خاتمہ کردیتی ہیں۔
تازہ مطالعے میں ان دونوں تحقیقات کا آپس میں موازنہ کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ اصل سے ملتے جلتے مصنوعی حالات میں الٹراوائیلٹ شعاعوں سے کورونا وائرس کا خاتمہ، سابقہ اندازوں کے مقابلے میں آٹھ گنا تیزی سے ہوا۔

اصل انسانی لعابِ دہن میں بھی یہ رفتار ہمارے پچھلے اندازوں کی نسبت 3 گنا زیادہ رہی تھی۔
واضح رہے کہ الٹراوائیلٹ شعاعوں کی دو اقسام ہی ، ’’یو وی اے‘‘ (UA-A) اور ’’یو وی بی‘‘ (UV-B)۔ یہ دونوں ہی زمین تک پہنچنے والی دھوپ میں قدرتی طور پر شامل ہوتی ہیں۔
ان دونوں تجربات میں ’’یو وی بی‘‘ شعاعوں کے کورونا وائرس پر اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا کیونکہ یہ اپنی وائرس اور جراثیم کش خصوصیات کی بناء پہلے ہی پر مشہور ہیں۔
حالیہ تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ سے کورونا وائرس کا تیز رفتار خاتمہ ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 3 تا 8 گنا تیز رفتار ثابت ہوا ہے۔
فی الحال ماہرین نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے، لیکن انہیں شبہ ہے کہ اس معاملے میں کم توانائی والی ’’یو وی اے‘‘ شعاعوں کا کردار بھی اہم ہوسکتا ہے جسے کھنگالنے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ تحقیقات نہ صرف کورونا وائرس کا پھیلاؤ قابو میں رکھنے، بلکہ مستقبل میں دیگر وائرسوں اور جرثوموں کو مؤثر طور پر ختم کرنے میں بھی اہمیت کی حامل ہوں گی۔

پیر، 15 فروری، 2021

روس و افغانستان جنگ میں تاریخ کا سبق۔

 


روس و افغانستان جنگ میں تاریخ کا سبق۔






کسے خبر تھی کہ مادی لحاظ سے یہ کمزور ملک اور دنیا وی ترقیوں سے دور یہ افرادِ بشر ایک دن ایک بڑے سورما اور سامراج کے تخت کو تاراج کریں گے؟ دکھنے میں بہت کمزور،افرادی طاقت میں بے بس،مادیات میں ادنی درجہ سے بھی محروم یہ قوم کس طرح ہر طرح کے پاور فل دشمن کو ناکوں چنے چھبوائے گی؟مگر کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کا دار ومدار مظاہر پر نہیں ایمانی بصیرت اور خدائی نصرت پر ہوتا ہے-انہیں میں سے ایک فیصلہ یہ تھا کہ افغانستان کے غیور عوام نے اپنی ایمانی قوت کے بل بوتے روس کے پرخچے اڑادئیے تھے-

آج سے ٹھیک بتیس سال قبل 26 دلو سن 1367 هش کو روس نے افغانستان کے مظلوم عوام کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا اور افغانستان سے راہ فرار اختیار کی-روایات میں آتا ہے کہ بدر کے دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا سر کاٹنے کے لیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور انہوں نے ہی سر کاٹ کر خدمتِ اقدس میں پیش کیا تھا-محدثین اس روایت میں ایک باریکی یہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل کو غرور تھا اور اس گھمنڈ میں مبتلا تھا کہ میں عرب کا سردار ہوں-اعلی نسب کا ہوں-قوت میں کئی طاقتور پہلوانوں کے برابر ہوں-وسائل وآلات سے مالا مال ہوں-کسی سطح پر بھی لشکر محمدی میرا ہم پلہ نہیں ہے-جب کہ دوسری طرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انتہائی دبلے پتلے اور نحیف وناتواں شخصیت تھے-ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ساتھیوں کو ترس آجاتا تھا-مگر خدا کی شان کہ سب سے طاقتور کے قلع قمع کرنے کے لیے سب سے زیادہ ناتواں ہی کا انتخاب ہوا-تاکہ یہ بتایا جائے کہ رعب اور دبدبہ، طاقت وقوت اور شان وشوکت اس ذات کو جچتی ہے کسی اور کو نہیں-لیکن اس اصول سے جو سرِمو انحراف کرے گا تو اس کا انجام ابوجہل کی طرح ہی ہوگا-

جس وقت روس افغانستان پر حملہ آور ہورہا تھا تو دونوں جانب کیفیت اس روایت سے مختلف نہیں تھی-روس جنگی ساز وسامان میں عالمی سطح کا ایک طاقتور مملکت تھا-افرادی قوت میں اس کا طوطی بولتا تھا-جس کی بنیاد پر اس نے دنیا کو مسخر کرنے کا ارادہ کیا تھا اور شروع اس مظلوم مملکت سے کردی جس میں ٹکنالوجی سے محرومیت تھی-غربت و بے روزگاری عروج پر تھی-افرادی قوت میں روس کا اس سے کوئی تقابل ہی نہیں تھا-پھر روس نے اپنا رعب اچھی طرح جمانے کے لیے وحشت اور درندگی میں کوئی کسر نہ چھوڑی-والد صاحب بتاتے ہیں کہ یہ وحشی جب کسی علاقے میں گھس جاتے تو شروع میں اپنے لڑاکا طیاروں سے وہ آندھی بمباری کرتے جس سے انسان زندہ بچ نکلتا تھا اور نہ ہی حیوان-پھر انہیں طیاروں کے زیرسایہ یہ وحشی، بچے کچھے انسانوں کی تلاش میں نکلتے-جہاں کہیں کوئی جاندار انسان ملتا تو اسے بری طرح سے قتل کرکے پاوں تلے روند ڈالتے تھے-نوبت یہاں تک پہنچتی تھی کہ اگر کہیں کوئی انسان نہیں ملتا تو یہ درندے جانوروں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنا ڈالتے اور انہیں قتل کردیتے-

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی ملین افغانی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے-لاکھوں لوگ ان کی درندگی سے شہید ہوئے-لاتعداد افراد زخموں سے چور ہوئے-آبادیاں ویراں ہوگئیں-رونقیں لٹ گئیں-حرمتیں پامال ہوگئیں-شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں-مگر ان سب کچھ کے باوجود ایک چیز بہر حال برقرار رہی اور وہ تھی ایمان کی چنگاری جو ہربندہ مؤمن کے دل میں سلگتی تھی-وہ ایمانی حرارت جو کسی کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی-جس کی بنیاد پر جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند ہوا-بظاہر یہ ایک ناداں سی حرکت تھی جو تباہی کے دہانے تک پہنچاتی تھی-کیونکہ ایک طرف سب کچھ اور دوسری طرف کچھ بھی پاس نہیں تھا-لیکن بصیرت سے روشناس لوگ اس کی حقیقت سمجھتے تھے-اس لیے ظاہری خدشات سے بے نیاز ہوکر حق کے عملبردار ہوئے اور بھرپور مزاحمت کی-کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ کارنامے سرانجام دئیے جن کی وجہ سے تاریخ پڑھتے وقت گزشتہ واقعات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے-وہ قربانیاں پیش کی گئی جن کی نظیر نہیں ملتی-عزیمت کے وہ مناظر دیکھنے کو ملے جس کے بیان کرنے کا قلم حق ادا کرسکتا ہے اور نہ ہی زبان-

تب اللہ کی نصرت جوش میں آئی اور وقت کے عبداللہ مسعود (افغانستان)سے وقت کے ابوجہل (روس)کا سر کٹواکر رہے-

آج جبکہ روس کی شکست کو بتیس سال گزر گئے ہیں-تو افغانستان کے غیور مجاہدین ایک اور قوت سے نبرد آزما ہیں-حالت بھی وہی ہے اور کیفیت بھی-جبکہ نصرتِ خداوندی سے نتیجہ بھی وہی آرہا ہے کہ سب سے زیادہ متکبر سب سے زیادہ ضعیف شخص کے ساتھ کشتی میں پچھڑنے کو ہے-اس سے دنیا کو سبق لینا چاہیے اور تاریخ کا یہ پیغام اپنے سینوں میں سنبھال رکھ لینا چاہیے-



*مشرق میں سپر پاور ناقابل قبول ۔ پاکستان ، چین کا نیا روٹ ۔ مودی ، اسٹیبلشمنٹ کی سرد جنگ ۔ سعودیہ ، بھارت جنگی مشقیں ۔ ایرانی وزیر دفاع کا دورہ بھارت ۔*


*مشرق میں سپر پاور ناقابل قبول ۔ پاکستان ، چین کا نیا روٹ ۔ مودی ، اسٹیبلشمنٹ کی سرد جنگ ۔ سعودیہ ، بھارت جنگی مشقیں ۔ ایرانی وزیر دفاع کا دورہ بھارت ۔*





جب سے کووڈ کے دوران امریکہ میں انویسٹمنٹ 49 فیصد تک گری ، اسی دوران چینی معیشت پہلے سے چار فیصد بڑھ گئی ، ٹرائیکا کیجانب سے چین کو گھیرنے کی روز نئی سازشیں سامنے آ رہی ہیں ، مشرق / ایشیا میں دنیا کی سپر پاور ، مغرب / یورپ سے برداشت نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ کواڈ ، تائیوان ، ہانگ کانگ ، تبت ، ساؤتھ چین سمندر غرضیکہ ٹرائیکا کی کوشش ہے ، چین معاشی ترقی چھوڑ کر ، جنگوں میں مصروف ہو جاۓ ۔ ۔ ۔  

گوادر ، سی پیک ، ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ ، چین ، پاکستان اصل نشانہ ہیں ۔ ۔ ۔


 اوپر سے پاکستان ، چین ایک نیا روڈ بنانے جا رھے ھیں ۔ ۔ ۔ پہلے صرف قراقرم ہائی وے روٹ سے چین ، پاکستان جڑتے تھے ، جو 1978 میں مکمل ھوا ، خنجراب سے سی پیک ، گوادر تک یہی روڈ جاتا ہے ، اب نیا روٹ ، چینی یارکنڈ سے شروع ہو کر ، گلگت بلتستان ، سکردو ، سیاچن سے ہوتا ہوا آزاد کشمیر ، وادی نیلم تک جاۓ گا ۔ یہ روٹ ٹرائیکا کی نیندیں حرام کر گیا ہے ۔ ۔ ۔ اس روٹ پر چین ، پاکستان اپنی ملٹری فورسز ، اسلحہ ، ایئر فورس ، انٹیلی جنس ٹیکنیکل اور ہیومن دونوں المختصر ، سب کچھ ڈپلاۓ کریں گے ۔ جونہی بھارت نے کوئی حرکت کی دونوں دوست ممالک ملکر چڑھ دوڑیں گے ۔ یہ روٹ دنیا کی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کو نہیں پتا تھا ۔ ۔ ۔ پاکستان ، چین کے پاس ایسے ایسے خفیہ روٹ ہیں ، جو نا کبھی دیکھے گئے نا سنے گئے ۔


تبھی چین کے سامنے سرینڈر کرنے کے بعد بھارتی سابق وزیر دفاع ، اے کے اینتھنی ، کا کہنا ہے ، چین اب کسی بھی وقت پاکستان کی مدد کر کے سیاچن پر ایڈونچر کر سکتا ہے ، بھارتی نیشنل سیکورٹی مودی کیوجہ سے خطرے میں پڑ چکی ہے ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ، ابتداۓ عشق ہے ، روتا ہے کیا ، آگے آگے دیکھئے ۔ ۔ ۔ ۔ سیاچن بھی گیا ، ارونا چل بھی گیا ، کشمیر بھی گیا ، چین کا دعویٰ ہے کے سیاچن بھی اسکا ہے 😎 ۔ ۔ ۔ چینی افواج سیاچن پر آ رہی ہیں ۔ 

بھارت بھول چکا ہے کہ پاکستان ، چین ایک ہیں ۔ ۔ ۔ بھارت سوچ رہا تھا ، چین کو علاقے سرینڈر کر کے چین سے جان چھوٹ جاۓ گی ، پھر مکمل فوکس پاکستان پر کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ بھارت سے متنازعہ علاقے حاصل کرو ، چین ، پاکستان بعد میں فیصلہ کر لیں گے ، کیا کرنا ہے ۔ ۔ ۔

دوسری جانب چین کے سامنے سرنڈر کرنے پر مودی کی الٹی گنتی بھارت میں شروع ہو چکی ہے ۔ مظاہروں میں شدت بڑھتی جا رہی ہے ، کسانوں کے احتجاج میں بھارتی افواج کیساتھ اب وکلاء ، ریٹائرڈ ججز بھی شامل ہو چکے ہیں ، ممبئی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بابری مسجد ، گجرات فسادات ، پلوامہ حملوں ، گودرہ ٹرین حادثہ ، پٹھان کوٹ ، اوڑی ، بالا کوٹ جتنے بھی واقعات ہوۓ ہیں ، سب مودی نے کرواۓ ہیں ، پلوامہ حملوں میں جو بارود استعمال ہوا ہے وہ ناگ پور فیکٹری میں تیار ہوا ۔ ۔ ۔ پریس کانفرنس میں ریٹائرڈ جج کے دائیں بائیں ریٹائرڈ فوجی بیٹھے تھے ۔ یعنی اب سول سوسائٹی کسانوں کیساتھ ملکر افواج و عدلیہ پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ مودی کو اسکے نظرئے سمیت جہنم واصل کیا جاۓ ۔ ۔ ۔ 

جبکہ بھارتی فوج اب یہ چاہتی ہے لداخ کی شرمندگی ، راہول گاندھی کے ذریعے مودی کے سر تھوپ دی جائے ، جس طرح مودی نے گلوان میں چینی در اندازی کا الزام افواج پر تھوپ دیا تھا ،  جبکہ راہول گاندھی بھارتی سیاست میں اسی قسم کا کردار ہے ، جو پاکستانی سیاست میں بلاول ہے ۔ ۔ ۔ 

اصل صورت حال بھارتی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے ، پاکستان ، چین کی تیاریاں عروج پر ہیں ، ہم ان سے کسی صورت نہیں لڑ سکتے ۔ جو بائیڈن کی پالیسیز کیوجہ سے بھارت خطے میں تنہا اور مودی اپنی ٹیم ، را ، افواج سمیت بھارت کیساتھ ساتھ ، دنیا بھر میں مزید ذلیل و رسوا ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ بھارت اب عرب ممالک کی طرح اپنی پوزیشن تبدیل کر کے روس کو دوستی کے پیغامات بھجوا رہا ہے ۔ 

سعودیہ ، بھارت کو دنیا دھتکار چکی ہے ، ایک ملک پاکستان  کا دوست ہے ، دوسرا بدترین دشمن ، بھارت کے پاس مودی کی موجودگی میں آپشنز ختم ہو چکے ہیں ، محمّد بن سلمان کی موجودگی میں ، سعودیہ کے پاس آخری سچا دوست پاکستان بچتا ہے ۔ ۔ ۔ سعودیہ ، بھارت کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں ، بھارتی میڈیا کیمطابق سال 2022 میں ہونے جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ پاکستان نے امریکہ کیطرف سے دھتکار دئیے جانے کے باوجود ، بہت سی ناقابل فراموش غلطیوں کے باوجود ، سعودیہ کو دوبارہ گلے لگانے کی ابتدا کر دی ہے ، مگر بھارتی افواج کیساتھ ، سعودیہ ، یو اے ای کے تعلقات ان ممالک کی بہت بڑی غلطی تصور کی جاۓ گی ، اگر ایسا ہوا تو ، پاکستان کے یو اے ای ، سعودیہ سے تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیلئے تبدیل ہو جاۓ گی ، سعودیہ ، یو اے ای کو اب سنبھلنا ہو گا ، غلطی کی گنجائش نہیں ہے ۔ ۔ ۔ 

آخر میں ایرانی وزیر دفاع بریگیڈئر جنرل عامر حطمی نے بھارت کا دورہ کیا ہے ، بپن راوت ، منوج نروانے ، راجناتھ سنگھ سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ ۔ ۔ اس نے تہران ، نیو دہلی کے کلچر ، تاریخی پس منظر کو ایک قرار دیا ، ریجنل ، جغرافیائ ، بین الاقوامی حالات بھارت ، ایران کے ایک جیسے قرار دئیے ، انڈین اوشن میں ایک ہونے کی بات کی اکٹھے ہو کر دونوں ممالک کے شاندار رول کو بڑھا کر دنیا کے سامنے لانے کی بات کی ، یعنی ایران ڈیفنس ، فوجی سطح پر بھارت کیساتھ کھڑا ہے ۔ اس بیان میں پاکستان کیلئے پیغام ہے ، کوئی برادر اسلامی ملک نہیں ہوتا ، ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ، جو کچھ سعودیہ ، یو اے ای کر چکے ہیں ، جو کچھ ایران کر رہا ہے ، یہ کوئی برادر اسلامی ممالک نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ ساتھ ضرور چلیں ، جہاں تک مفادات ہیں ، مفادات کو ضرب لگنے کی صورت میں ، ترکی کی پالیسی ۔ ۔ ۔

اتوار، 14 فروری، 2021

پاکستانی ٹیم نے دو ریکارڈ اپنے نام کر لیے۔


پاکستانی ٹیم نے دو ریکارڈ اپنے نام کر لیے۔ 


*پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دو ریکارڈ اپنے نام کر لیے

*پاکستان ٹیم ساؤتھ افریقہ کو فائنل ٹی20 میں شکست دی کر ساؤتھ افریقہ کو ایشیاء میں ٹی20 سیریز ہرانے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی۔*

*دوسرا ریکارڈ یہ نام کیا کہ پاکستان 100 ٹی20 انٹرنیشنل میچز جیتنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی۔*

*پاکستان ٹیم نے اب تک ٹوٹل 163 ٹی20 میچز کھیلے جن میں سے 100 میں کامیابی حاصل کی۔⁦❣️⁩👏👌*

ہفتہ، 13 فروری، 2021

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا دوران حج ایک سبق آموز واقعہ

 

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ

 


حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا ، وہاں منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا

لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر لے آیا اور پوچھابھلے مانس تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ اےمیرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں تو عالمِ غیب سے حاتِب کی آوز آتی ہے نہیں تو حاضر نہیں ہے تو وہ شخص بولا ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے یہ میرا چوبیسواں حج ہے وہ بڑا بے نیاز ہے میں ہر سال یہی امید لیکر حج پر آتا ہوں کہ شايداس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام لوٹ جاتاہوں

سرکارؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی ،اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں چلا آتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رُندھی  ہوٸی آواز میں گڑگڑاتے ہوۓ بولا ۔

اے معین الدینؒ تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو کدھر جاٶں اُس کے سوا میرا کون ہےکون میری باتیں سننے والا ہےکون میرے گناہ معاف کرنے والا ہےکون میری مدد کرنیوالا ہےمیں کس در پہ جا کر گڑگڑاٶں کون میری دادرسی کرے گاکون میرا خالی دامن بھرے گا کون مجھے بیماری میں شفا دے گاکون میرے گناہوں کی پردہ داری کرے گامعین الدینؒ مجھے بتا اگر کوٸی دوسرا رب ہے تو بتا میں اسکے پاس چلا جاتا ہوں ، مجھے بتا معین الدینؒ اسکے علاوہ اگر کوٸی در ہے تو میں وہاں جاٶں روٶں اور گڑگڑاٶ سرکار فرماتے ہیں اسکی باتیں سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، جسم پر لرزہ طاری ہو گیااور میں نے اپنے لرزتے ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں دعا کیلیے اٹھاۓ اور کپکپاتے ہونٹوں سے ابھی صرف اللّہﷻ کو پکارنا شروع ہی کیا تھا کہ غیب سےآوازآٸی

اے معین الدین یہ ہمارا اور اس کا معاملہ ہے تو پیچھے ہٹ جا تم نہیں جانتے کہ مجھ اسکا اس طرح گڑگڑا کر لبیک لبیک لبیک کہنا کتنا پسند ہےاگر میں اسکے لبیک کے جواب میں آج ہی لبیک کہہ دوں اور اسے یہ یقین ہو جاۓ کہ اسکاحج قبول ہو گیا ہےتو وہ آئندہ حج کرنے نہیں آٸیگا اور یہ سمجھتا ہے کہ اسکا حج قبول نہیں ہورہاتواسے بتاٶ کہ پچھلے 23 سالوں سے جتنے بھی لوگوں کے حج قبول ہوۓ ہیں وہ سب اس کی لبیک لبیک لبیک کی بدولت ہی قبول ہوۓ ہیں .


دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟

  دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟ تعارف دل کا دورہ ایک جان لیوا بیماری ہے جو پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہ...