دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟
تعارف
دل کا دورہ ایک جان لیوا بیماری ہے جو پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ ماضی میں یہ بیماری زیادہ تر بڑی عمر کے افراد میں دیکھی جاتی تھی، لیکن اب نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کل دل کے دورے کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟ اس مضمون میں ہم اس کے اسباب، علامات، روک تھام اور علاج کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔
دل کے حملے کی بڑھتی ہوئی شرح کے اسباب
1. غیر متوازن خوراک
آج کے دور میں فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ، چکنائی اور کولیسٹرول سے بھرپور غذا کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ یہ غذائیں شریانوں کو بند کرنے کا سبب بنتی ہیں، جو آخر کار دل کے دورے کی وجہ بنتی ہیں۔
2. جسمانی سرگرمی میں کمی
مشینی دور میں لوگ جسمانی سرگرمیوں سے دور ہو گئے ہیں۔ پہلے لوگ زیادہ پیدل چلتے، کھیلتے اور محنت کے کام کرتے تھے، لیکن اب زیادہ تر لوگ بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
3. ذہنی دباؤ اور ڈپریشن
ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کا براہ راست اثر دل پر پڑتا ہے۔ آج کے دور میں نوکری کا دباؤ، مالی مسائل، اور ذاتی زندگی کے مسائل کی وجہ سے لوگوں میں ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے، جو دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔
4. نیند کی کمی
نیند کا کم ہونا دل کی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جو لوگ روزانہ 6-8 گھنٹے کی نیند نہیں لیتے، ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
5. تمباکو نوشی اور شراب نوشی
سگریٹ نوشی اور شراب کا استعمال دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تمباکو شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
6. ہائی بلڈ پریشر اور شوگر
بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں میں دل کے دورے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ چکنائی والی غذا، نمک کا زیادہ استعمال اور ورزش کی کمی بلڈ پریشر اور شوگر کو بڑھا دیتی ہے، جو دل کی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔
7. جینیاتی اور موروثی عوامل
اگر کسی کے خاندان میں ہارٹ اٹیک کی ہسٹری موجود ہو تو ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جینیاتی اثرات بھی دل کی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دل کے حملے کی علامات
ہارٹ اٹیک سے پہلے کچھ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جنہیں وقت پر پہچاننا بہت ضروری ہے۔
سینے میں شدید درد یا دباؤ
بازو، گردن، یا جبڑے میں درد
سانس لینے میں دشواری
بہت زیادہ پسینہ آنا
چکر آنا اور بے ہوشی
متلی یا الٹی آنا
بے چینی یا گھبراہٹ محسوس کرنا
اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
دل کے حملے سے بچاؤ کے طریقے
1. صحت مند خوراک کا استعمال
سبزیاں، پھل، مچھلی اور خشک میوہ جات کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔
چکنائی، نمک اور چینی کا کم استعمال کریں۔
پانی زیادہ پئیں اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔
2. روزانہ ورزش کریں
روزانہ 30 سے 40 منٹ کی واک کریں۔
یوگا اور میڈیٹیشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
موٹاپے سے بچنے کے لیے جسمانی سرگرمی کو بڑھائیں۔
3. ذہنی دباؤ سے بچیں
مثبت سوچ اپنائیں اور خوش رہنے کی کوشش کریں۔
روزانہ کچھ وقت اپنے پسندیدہ مشغلوں میں گزاریں۔
نیند پوری کریں اور آرام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
4. تمباکو نوشی اور شراب نوشی چھوڑ دیں
سگریٹ اور شراب کے استعمال سے پرہیز کریں۔
اگر ان عادات کو چھوڑنا مشکل ہو تو کسی ماہر سے مشورہ کریں۔
5. طبی معائنے کرواتے رہیں
بلڈ پریشر اور شوگر کو چیک کرواتے رہیں۔
اگر خاندان میں دل کے امراض کی ہسٹری ہو تو ڈاکٹر سے باقاعدگی سے رجوع کریں۔
دل کے حملے کی صورت میں کیا کریں؟
اگر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:
مریض کو آرام دہ پوزیشن میں لٹائیں۔
فوری طور پر ایمبولینس کو کال کریں۔
اگر مریض کو پہلے سے دل کی بیماری ہے اور ڈاکٹر نے اسپرین دی ہوئی ہے تو اسپرین چبانے کو کہیں۔
مریض کو گہری سانسیں لینے کو کہیں تاکہ آکسیجن کی مقدار زیادہ ہو۔
اگر مریض بے ہوش ہو جائے اور سانس نہ لے رہا ہو تو CPR کریں۔
نتیجہ
دل کے حملے کی بڑھتی ہوئی شرح ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کی بڑی وجوہات غیر متوازن خوراک، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور تمباکو نوشی ہیں۔ تاہم، اگر ہم صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، متوازن خوراک کھائیں، روزانہ ورزش کریں اور ذہنی دباؤ کو کم کریں، تو ہم دل کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ وقت پر علاج سے جان بچائی جا سکتی ہے۔








