صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد

جمعہ، 12 فروری، 2021

آپ اپنا کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟ ?How can you lower your cholesterol level

 



آپ اپنا کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟





ذیابیطس اور بلڈپریشرکا صحیح علاج نہ کروایا جائے تو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔


زندگی مزے سے گزر رہی تھی، چٹ پٹے مرغن کھانے‘ پھجے کے سری پائے‘ گردے کپورے‘ مغز‘ نہاری اور ناشتے میں انڈا اور مکھن کھانا معمول تھا۔


اس طرح کے کھانے اور کھابے کھانا مزیدار لگتا، خود کھانے کے  ساتھ  اور دوسروں کو کھلانا بہت اچھا لگتا۔ صحت بھی خوب تھی۔ ڈاکٹر کے پاس کم کم  جانا ہوتا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سینے میں گھٹن محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچے ECG اور دوسرے ٹیسٹ ہوئے تو پتہ چلا کہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کافی حد تک بڑھ چکی ہے۔ECG میں بھی گڑبڑ ہے۔


خون میں کولیسٹرول بڑھنا خاصا تشویشناک ہوتا ہے اس کے بڑھنے اور مضمرات کے بارے میں ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔جن دوستوں کا کولیسٹرول لیول زیادہ ہوچکا ہے اور جو لوگ مرغن غذاؤں کے زیادہ شوقین ہیں، ذیل میں ان سب کیلئے کولیسٹرول کے بارے میں تمام بنیادی معلومات دی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے طرز زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی لاکر اور کھانے پینے میں احتیاط کرکے، اپنا کولیسٹرول لیول کم کرکے صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔


 کولیسٹرول کیا ہے؟


کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے۔ ایک نارمل آدمی کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار تقریباً 100 گرام یا ا س سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔ کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے، اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کرنے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے۔


مختلف قسم کی خوراک مثلاً گوشت، انڈے، دودھ، مکھن اورگھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ اسی طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کی تہیں بنا کر خون کے نارمل بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر کے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔


 کولیسٹرول کی اقسام


کولیسٹرول خون میں گردش کرتا ہے۔ جسم میں موجود چکنائی اور لحمیاتProtein  کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کولیسٹرول کو اس کے استعمال کی جگہ پر لے جاتے ہیں۔ ان مرکبات کو Lipo proteins  کہتے ہیں۔ ان کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:


(1)      Very Low Denity Lipoproteins (VDVL)


(2)      Low Density (LDL)  Lipoproteins


(3)      High Density  Lipoproteins (HDL)


LDL اور VLDL جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ HDL اصل میں خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کام آتا ہے۔ اگر خون میں LDL اور VLDL کی مقدار زیادہ ہوگی تو پھر لازماً کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر اس کی (Arteries) وریدوں یا شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا۔ مرغن غذائیں یا کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی Triglycerdies بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کی و جہ سے خون کی نالیوں میں Clot آنے کا خطرہ مزیدبڑھ جاتا ہے۔


 کولیسٹرول کا لیول


جسم میں کولیسٹرول اور مختلف قسم کے Lipoproteins اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کیلئے خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اسے Lipid profile کا نام دیاجاتا ہے۔یہ ٹیسٹ  کرانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے۔ تبھی خون میں کولیسٹرول وغیرہ کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے۔ ایک تندرست آدمی کا Lipid profile مندرجہ ذیل ہونا چاہیے۔


کولیسٹرول           200 – 120ملی گرام/ ڈیسی لٹر


HDL   41-52ملی گرام/ ڈیسی لٹر


LDL   108-188ملی گرام/ ڈیسی لٹر


ٹرائی گلیسرائیڈ ز     150ملی گرام تک


خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے مضمرات


خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے کے امکانات 10-8 گنا بڑھ جاتے ہیں۔ خون میں کولیسٹرول زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میںCLOT  بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں  دل کے دورے سے واپسی کے تمام امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ موٹاپے کے ساتھ اگر ذیابیطس بھی ہو تو دل کے دورے کے امکانات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔


خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا آسان پروگرام


کولیسٹرول کی خون میں زیادتی نہ صرف خطرناک ہے بلکہ خون کی شریانوں میںPlaque یا Clot بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگیLife Style  میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ نارمل زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے بھی خون میں کولیسٹرول میں زیادتی ہوتی ہے۔ جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے کا امکان زیادہ ہوگا۔


ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلوگرام زیادہ وزن کیلئے جسم کو تقریباً22  ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیداکرنا پڑتا ہے۔ یعنی اگر کسی دوست کا وزن نارمل (وزن) سے 20 کلو گرام زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ440  ملی گرام زیادہ کولیسٹرول بنائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے۔ علاوہ ازیں کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ایسی غذا سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس میں کولیسٹرول کی زیادتی ہو۔ زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاؤں سے لازمی طور پر پرہیز کیا جائے۔


کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے۔ اچھی صحت کے لئے ایک دن میں ایک شخص کو 100 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے۔ جسم میں کولیسٹرول کو کم رکھنے کیلئے جن غداؤں میں زیادہ کولیسٹرول ہو ان سے مکمل  پرہیز کریں۔

قارئین کی دلچسپی اور رہنمائی کے لئے ذیل میں مختلف کھانوں میں کولیسٹرول کی مقدار کا چارٹ دیا جا رہا ہے تاکہ اس کے مطابق خوراک کا استعمال کیا جا سکے۔


غذا ــــــــــــــــــــ مقدار ــــــــــــــــــــ کولیسٹرول


پھل اور سبزیاں ــ کوئی بھی مقدار ـــ 0ملی گرام


دودھ(بالائی کے بغیر ) ـ 250ملی لیٹر ـ 5ملی گرام


فرنچ فرائیز ـــــــــ 185 گرام ــــــــ 20ملی گرام


ہیمبرگر ـــــــــــ 1 عام سائز ــــــــــ  26ملی گرام


دودھ (فل کریم) ـــ 250 ملی لیٹر ـــ 34ملی گرام


مکھن ــــــــــــ ایک چمچ ـــــــــــــــــ 35ملی گرام


گھی ــــــــــــــ ایک چمچ ـــــــــــــــــ  45ملی گرام


مچھلی ــــــــــ درمیانی  ــــــــــــــــــ 60ملی گرام


مرغی کا گوشت ـــ 190 گرام ـــــــــ 65ملی گرام


بڑا یا چھوٹا گوشت ـــ 190 گرام ـــ 95ملی گرام


ڈرم سٹک (چکن) ـــــ90  گرام ـــ 100ملی گرام


آئس کریم ـــــــــــ ایک کپ ـــــــــــ 110ملی گرام


فروٹ کیک ــــــــایک سلائس ـــــــ 165ملی گرام


انڈہ ــــــــــــــــــــ1 گرام ــــــــــــــــ 225ملی گرام


بیف/چکن لیور ـــ160 گرام ـــــــــ 250ملی گرام


انڈےاورفرائڈ نوڈلزـــ ایک پلیٹ ـــ270ملی گرام


کولیسٹرول کم رکھنے کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں:


(1) اپنی خوراک میں زیادہ کولیسٹرول والی غداؤں کو بالکل ختم یا کم کردیں


٭        انڈوں کا استعمال بند کردیں یا صرف انڈے کی سفیدی لیں۔


٭        گوشت کا استعمال کم کریں چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں۔


٭        کریم، مکھن، چیز، کریم والے دودھ اور دیسی گھی کھانے سے پرہیز کریں۔


٭        گردے، کپورے، کلیجی، مغز، سری پائے اور نہاری وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں۔


(2)  سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں


مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لئے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ پھلوں اور سزیوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا۔ ویسے بھی سبزیاں کھانے سے آدمی زیادہ صحت مند توانا اور سمارٹ رہتا ہے۔ اس لئے تندرست اور چاق و چوبند رہنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاد اور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں۔ مختلف تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے۔ بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہے۔


(3)  چکنائی سے مکمل پرہیز


(i)

خون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیگلسٹرائیڈز کی مقدار کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کردی جائے، ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے، پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے۔ اگر جسم میں چربی کی مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل کم یا ختم کر دیں اس کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔


چکنائی کا استعمال کرنے کے لئے ہر قسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں۔


(ii)

صرف غیر سیر شدہ Unsaturated تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین تیل زیتون کا تیل سورج مکھی کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل شامل ہیں۔ زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے۔ اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کیلئے مسلمہ ہے۔ عرب میں زیادہ لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں۔ عربوں کے ہر کھانے اور ناشتے میں زیتون کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میںبھی اللہ نے زیتون کی قسم کھائی ہے۔ یوں زیتون کے تیل کی افادیت مسلمہ ہے۔


(iii)

کولیسٹرول کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بازار سے کھانے نہ کھائے جائیں، اس کے علاوہ مختلف قسم کی مٹھائیاں میٹھے بسکٹ کیک برگر ہیمبرگر وغیرہ کھانے سے مکمل پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کے کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ مختلف قسم کی غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے۔ اَن چھنا آٹا بھی مفید ہے۔


٤۔ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول ا ور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اور یوں خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے۔


(4)  سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں:


سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر HDL کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ خون میں شامل HDL  اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لئے اس کی موجودگی ضروری ہے۔ اسی وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے۔


(5)  شراب نوشی سے بچاؤ


سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کیلئے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے۔


ایک تحقیق کیمطابق صرف غذا میں مناسب تبدیلی کر کے2،3 ماہ کے اندر تقریباً60-50ملی گرام کولیسٹرول کم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی6 ماہ کی احتیاط سے کولیسٹرول میں 150-100 ملی گرام تک کی کمی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خوراک میں جو کا آٹا Oatmeal پھلیاں، کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ بعض تجربات کے مطابق روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔


(6) لائف سٹائل میں تبدیلی:


کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لائف سٹائل میں تبدیلی کی جائے۔ مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اسکے علاوہ مندرجہ ذیل خصوصی ہدایات کو بھی پیش نظر رکھیں۔


(i)

اللہ پہ پورا یقین رکھیں، مثبت سوچ اپنائیں۔ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ یقین کامل اور مثبت سوچ کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ رسول پاک ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اگر کھانا بھوک رکھ کر کھایا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ ذہن کو تفکرات سے خالی رکھا جائے۔ ذہنی ا نتشار، دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ روحانی بالیدگی کے لئے پانچ وقت نماز کی پابندی کی جائے۔


(ii)

یاد رکھیں کہ کولیسٹرول کی خون میں زیادتی بڑا مسئلہ نہیں۔ اسے کم کرنے کا حل آپکے پاس ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی کرکے، مثبت سوچ اپنا کر، سادہ غذا استعمال کرکے آپ نہ صرف خون میں کولیسٹرول کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں بلکہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔


(iii)

ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ اس زریں اصول پر عمل کریں کہ کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جائے۔ موٹاپے سے صرف اس صورت میں بچا جاسکتا ہے۔ موٹاپا کولیسٹرول میں زیادتی کا تو سبب بنتا ہے اسکے ساتھ ساتھ مزید کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے بالخصوص رات سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا لیا جائے تاکہ نظام انہضام اور جسم کے دوسرے افعال پر خوامخواہ بوجھ نہ پڑے۔ اس سلسلے میں حضورﷺ کی حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھیں کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ کھانا کھاتے وقت  پیٹ کے تین حصے کر لیں۔ ایک کھانے کے لیے ایک پانی کے لئے اور ایک ہوا کے لیے۔ اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا ہوگا نہ کولیسٹرول بڑھے گا اور نہ دوسری بیماریاں ہوںگی۔


(iv)

روزانہ ورزش کو معمول بنائیں، یہ آدمی کو چست و توانا رکھتی ہے۔ ورزش خواہ کسی قسم کی ہو، اگر  باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو یہ موٹاپا کم کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور اس سے لازماً خون میں کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے۔


(v)

ذیابیطس، بلڈپریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر ان دونوں بیماریوں کا صحیح علاج نہ کروایا جائے تو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی قسم کی کوئی اور بیماری ہے تو ڈاکٹر کے مشورہ سے اسکا مناسب علاج کیا جائے۔



جمعرات، 11 فروری، 2021

بینائی تیز کرنے کے لئے 6 آسان طریقے۔ Six Easy ways to sharpen your eyesight


 چشمہ اتاریئے اور جانیئے آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لئے 6 آسان طریقے کہیں دیر نہ ہو جائے!



آنکھیں کمزور ہو جائیں تو چشمے آپ کی چہرے کی خوبصورتی کو ماند کر دیتے ہیں، کسی بھی شادی یا تقریب میں جائیں، اتنی حسین دکھنے کے بعد چہرے پر چشمہ آپ کو بھی برا لگتا ہے؟ تصویریں کھچوانی ہیں لیکن پہلے چشمہ اتارتی ہیں یا لینسز کا استعمال کرتی ہیں تو ان تمام مسائل سے جان چھڑانے کے لئے آج کے-فوڈز میں ہم آپ کو بتا رہے ہیں آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لئے کچھ بہترین فوڈز جو آپ کی بینائی کو بڑھا سکتے ہیں۔


• ایلوویرا:




ایلوویرا ایک ایسا پودا ہے جس کے اندر کئی بیماریوں کا علاج موجود ہے۔انہی میں سے ایک آنکھوں کی بینائی بھی ہے۔ ایلوویرا میں وٹامنز، منرلز، پروٹینز اور کیلشیئم بہت بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو کہ آنکھوں کیلئے بہت مفید ہیں۔ ایک چمچ ایلوویرا روزانہ کھانے سے بینائی بہت بہتر ہوتی ہے۔


• پالک کے پتے:




پالک کے پتے آنکھوں کیلئے بہت مفید ہیں۔اس میں دو ایسے اینٹی آکسیڈنٹس (مےکیولا- لوٹینن اور ژی ایژینتھن) بہت بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو کہ آنکھوں کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ مے کیولا آنکھوں کے اندرونی حصے ریٹینا میں موجود ہوتا ہے جو کہ سن بلاک کا کام کرتا ہے اور ہر طرح کی نقصان دہ روشنی سے آنکھوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ لوٹینن اور ژی ایژینتھن آنکھوں کی بینائی کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔ اس لئے ہمیں پالک کو اپنی غذاء میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنا چاہیئے۔


• ٹماٹر:



ٹماٹر میں وٹامن- سی اور کیریٹانائڈز موجود ہیں جن میں لائیکوپین بھی شامل ہے۔ جو کہ نہ صرف آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے بلکہ تیز روشنی سے ان کی حفاظت بھی کرتا ہے۔


• انڈے کا استعمال:



انڈے کی زردی کے اندر زنک، وٹامن اے، ژی ایژینتھن موجود ہوتے ہیں۔ روزانہ ایک انڈا یا صرف انڈے کی زردی کھانے سے نظر تیز ہو سکتی ہے اور بہتر یہ ہے کہ آپ انڈے کو دودھ کے ساتھ استعمال کریں اس سے آنکھوں کی صفائی بھی ہو جاتی ہے اور آنکھ کی پتلی بھی مضبوط ہوتی ہے۔


• مچھلی کا استعمال:



مچھلی کو اپنی غذاء کا حصہ بنائیں۔ اس کے اندر اومیگا-3 فیٹی ایسڈز اور وٹامن-ڈی موجود ہوتے ہیں جو ہماری بینائی کو تیز کرتے ہیں۔ بہت زیادہ استعمال نہیں کرسکتے تو ایک ماہ میںایک مرتبہ ضرور کھائیں اور اس کے علاوہ مچھلی کے تیل کے کپسولز کا استعمال زیادہ کریں۔


• زیتون کا تیل:



زیتون کے تیل میں وٹامنز اے،سی، ڈی، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور کارٹینوائڈ ایسڈ سمیت پولی مے-کیولا پلازمہ پائے جاتے ہیں جو کہ نہ صرف بینائی کو تیز کرتی ہے بلکہ ساتھ ہی آپ کی آنکھوں کے عدسے، پتلی اور بیرونی تہہ کو مضبوط بنانے کا کام بھی کرتا ہے۔




جمعہ، 17 جولائی، 2020

برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے روس پر کورونا ویکسین کی تحقیق کو ہیک کرنے کا الزام لگا دیا۔ .Britain, the United States and Canada have accused Russia of hacking corona vaccine research


برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے روس پر کورونا ویکسین کی تحقیق کو ہیک کرنے کا الزام لگا دیا


تینوں حکومتوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروپ یقینی طور پر روسی انٹیلی جنس سے منسلک ہے اور ان کے لئے کام کر رہا ہے، غیر ملکی خبر رساں ادارہ
 (17 july 2020)
 برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے روس پر کورونا ویکسین کی تحقیق ہیک کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تینوں حکومتوں نے انگلیاں اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروپ یقینی طور پر روسی انٹیلی جنس سے منسلک ہے اور ان کے لئے کام کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ان الزامات کے بعد تینوں ممالک کے ماسکو کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔

اس حوالے سے برطانیہ کے ’نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر‘ (این سی ایس سی) اور کینیڈا کی ’کمیونیکیشن سکیورٹی سٹیبلشمنٹ‘ (سی ایس ای) کا کہنا ہے کہ ’اے پی ٹی 29‘ ایک سائبر جاسوس گروپ ہے جو یقینی طور پر روسی انٹلیجنس سروس کا حصہ ہے۔ تاہم دوسری جانب روس نے فوری طور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
اس حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کی تائید امریکہ نے بھی کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس ہیکنگ گروپ نے 2020 میں اے پی ٹی 29 نے کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں کورونا وائرس کی ویکسین پر تحقیق کرنے والی مختلف تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد اس سے متعلق معلومات چوری کی ہیں۔ اس حوالے سے تینوں ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روس اس حوالے سے ابھی مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا کیونکہ روسی وبائی امراض سے متعلق انٹیلی جنس سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہے ہیں۔

ایک الگ بیان میں امریکی قومی سلامتی ایجنسی نے ان الزامات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اے پی ٹی 29 انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے سرکاری، سفارتی، تھنک ٹینک، ہیلتھ کیئر اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد طریقے اور تکنیک کا استعمال کرتی ہے۔ خیال رہے کہ چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔



(17 july 2020)
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 36 لاکھ 96 ہزار 738 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے ہلاکتیں 5 لاکھ87ہزارہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 49 لاکھ 54 ہزار 292 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 59 ہزار 634 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 81 لاکھ 55 ہزار 561 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

پیر، 13 جولائی، 2020

قدیم و جدید عجائبات عالم, Ancient and modern wonders

قدیم و جدید عجائبات عالم


یہ دنیا بہت سی حیرت انگیز چیزوں، دلچسپ لوگوں اور عجائبات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ عجائبات تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو شمار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ قدیم و جدید دنیا میں بعض عمارتیں ایسی موجود ہیں جنہیں عجائبات عالم میں شمار کیا جاتا ہے۔ مثلاً اٹلی کا جھکتا ہوا مینار، برطانیہ کی مشہور عالم گھڑی بگ بین، انڈونیشیا میں واقع گوتم بدھ کا مندر بار بوڈور، نیویارک کی ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ، بارسلونا(اسپین)کا گائیڈس کیتھیڈرل، آگرہ کا تاج محل، سڈنی کا اوپیرا ہاؤس، عظیم دیوار چین، پیرس کا ایفل ٹاور، مصر کے حکمران فراعنہ کے مخروطی مقبرے جن میں غزہ کا مقبرہ شہرت رکھتا ہے۔ 


سینکڑوں سال پہلے زندگی بہت مشکل تھی۔ لوگوں کے پاس مشینی آلات کو چلانے کا علم نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے عظیم الشان عمارتیں، مجسمے اور یادگار مقبرے تعمیر کیے۔ جن کی جسامت دیوقامت اور ڈیزائن بہت انوکھے ہیں۔
 



جب انسان کے شعور نے آنکھیں کھولیں تو اس وقت کی مہذب اور ثقافتی دنیا میں دو ملک بڑی اہمیت رکھتے تھے، یونان اور روم (سلطنت روما)۔ ان دونوں سلطنتوں نے اس وقت حسب ذیل عمارتوں کو دنیا کے سات عجائبات قرار دیا اور انہیں بڑی اہمیت دیا کرتے تھے۔ ان میں اہرام مصر، بابل کے معلق باغات، ڈائنا کا مندر (جو ایشیائے کوچک کے مقام ایفی سس میں واقع تھا)، یونان کے مقام اولمپیا میں ایستادہ زیورس دیوتا کا مجسمہ، شاہ ہیلی کارناسس کا شاندار مقبرہ جو ایشیائے کوچک میں واقع ہے، سورج دیوتا کا دیو پیکر مجسمہ، اسکندریہ میں فراعنہ مصر کا تعمیر کردہ لائٹ ہاؤس(روشنی کا مینار)۔


         یہ تمام عجوبے اپنے اپنے دور کی داستانیں سناتے ہیں۔ اہرام مصر کی تعمیر دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ جنوری 2006 میں دنیا بھر کے لوگوں کو مدعو کیا گیا کہ وہ دنیا کے سات نئے عجائبات کے انتخاب کے لیے رائے دہی میں حصہ لیں۔ یہ رائے دہی سوئٹزر لینڈ کی ایک نجی تنظیم ”دی نیو سیون ونڈرز فاؤنڈیشن“ نے کروائی۔ سات عجائبات کے انتخاب کے لیے دنیا کی 21 اہم تنصیبات کو منتخب کیا گیا۔ ان 21 عمارات میں قدیم رومی اکھاڑا، اردن کا قدیم شہر پٹیرا، برطانیہ کا سٹون ہیچ اور دیوار چین شامل ہیں۔ 

         عجائبات کی فہرست میں کچھ جدید عمارتیں بھی شامل ہیں۔ مثلاً پیرس کا ایفل ٹاور، امریکہ کا مجسمہ آزادی، سڈنی کا اوپیرا ہاؤس، مصر کا اہرام وہ واحد عجوبہ ہے جو پرانے سات عجائبات میں سے ایک ہے جو اس نئی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔ اب تک جو سات عجائبات قدیم جانے جاتے ہیں ان کا انتخاب قریباً دو ہزار سال قبل ایک یونانی فلسفی فلون(Floon) نے کیا تھا۔
                          
  _________________________________

English Translation:


Ancient and modern wonders:




This world is full of amazing things, interesting people and wonders.  These wonders are so numerous that it is difficult to count them.  There are some buildings in the ancient and modern world that are considered to be the wonders of the world.  Examples include Italy's Leaning Tower, Britain's famous Big Ben, the Gautam Buddha Temple in Indonesia, Bar Bodor, New York's Empire State Building, Barcelona's (Spain) Guides Cathedral, Agra's Taj Mahal, Sydney's Opera House, the Great  The Great Wall of China,

the Eiffel Tower in Paris, the conical tombs of the Egyptian ruler Pharaoh, of which the tomb of Gaza is famous.


 Hundreds of years ago, life was very difficult.  People did not know how to operate machinery.  But despite this, they built magnificent buildings, statues and monuments.  The size and design of the giant is very unique.


 When human consciousness opened its eyes, two countries were of great importance in the civilized and cultural world of that time, Greece and Rome (Roman Empire).  At that time, these two empires considered the following buildings as the seven wonders of the world and gave them great importance.  These include the Pyramids of Egypt, the Hanging Gardens of Babylon, the Temple of Diana (located in Ephesus, Asia Minor), the statue of the god Zeus in Olympia, Greece, and the magnificent tomb of King Haley Carnassus in Asia Minor.  Statue of the Sun God, a lighthouse built by Pharaonic Egypt in Alexandria.


          All these wonders tell the stories of their times.  One is amazed at the construction of the pyramids of Egypt.  In January 2006, people around the world were invited to vote on a selection of seven new wonders of the world.  The poll was conducted by The New Seven Wonders Foundation, a Swiss private organization.  21 major installations of the world were selected for the selection of seven wonders.  The 21 buildings include the ancient Roman arena, the ancient city of Patera in Jordan, Stoneheich in Britain and the Great Wall of China.

          The list of wonders also includes some modern buildings.  For example, the Eiffel Tower in Paris, the Statue of Liberty in the United States, the Opera House in Sydney, the Pyramids in Egypt are the only wonders that are one of the old seven wonders that have been added to this new list.  The seven wonders that are still known today were chosen by a Greek philosopher Floon almost two thousand years ago.

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

پاکستان علما کونسل نے مندر کی تعمیر کے لئے حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان علما کونسل نے مندر کی تعمیر کے لئے حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔



 اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم مندر بنانے کے تنازعے کی مذمت کرتے ہیں، آئین پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا محافظ ہے، دارالافتاء پاکستان اور پاکستان علماء کونسل اپنی تجاویز اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کرے گا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین یہاں اقلیتوں کو ہر قسم کی عبادت کرنے کی اجازت دیتا ہے، آئین کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کو اپنی عبادت گاہ رکھنے اور اپنے عقیدے اور روایت کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہے، شرعیت نے بھی تمام غیر مسلموں کو یہ حق دیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی عبادت گاہیں تعمیر ہوئی ہیں پاکستان علماء کونسل عالمی امن کونسل کے تعاون سے مختلف مکاتب فکر اور مذاہب کے قائدین کا اجلاس بلا رہی ہے جس میں ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ اعلامیہ طے کیا جائے گا۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علماء کونسل ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے فرنٹ لائن کردار ادا کررہی ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بین الاقوامی معاہدے کے مطابق وجود میں آیا ہے اور پاکستان کی غیر مسلم آبادی ملک کے استحکام کے لئے انتہائی مثبت اور موثر کردار ادا کررہی ہے، مندر بنانے سے کسی کے عقیدے کا نقصان نہیں ہو رہا اور نہ ہی ملک کو کسی قسم کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے لئے درجنوں عبادت گاہیں قائم کی گئیں اور حال ہی میں حکومت نے سکھ یاتریوں کے لئے کرتار پور راہداری تعمیر کی، اس لئے مندر بنانے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بس یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی انتہا پسند کو اتنی اجازت نہیں دینی چاہیئے کہ وہ کسی اقلیت کو نقصان پہنچائے

جمعرات، 9 جولائی، 2020

:کمر درد کی وجوہات اور علاج۔ Back pain treatment and causes



:کمر درد کی وجوہات اور علاج




انسان کی روز مرہ کی جسمانی مشکلات میں آج کل ایک بڑا مسئلہ کمر درد بنتا جا رہا ہے، تقریبا تین چوتھائی لوگ اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں کمر درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دور حاضر کی مشینی زندگی اور انسان کا سست لائف اسٹائل کمر درد میں مبتلا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔کمر درد ممکن ہے کہ تھوڑی مدت کے لئے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مسلسل اس مسئلے کا شکار ہو۔ کم مدتی کمر درد کا دورانیہ 4 سے 6 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ طولانی مدت کی کمر درد اس سے بھی زیادہ عرصے کے لئے رہتی ہے۔ بعض افراد تمام عمر کے لئے بھی اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کمر درد کے عوامل:۔

کمر درد کے کامیاب علاج اور حل کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کو کمر درد ہونے کی اصل وجہ کا پتہ ہو۔عام دوائیوں کے استعمال سے ہم عارضی طور پر درد سے تو چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔اصل مسئلہ تو اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر دوائی اور کیمیکل کے اثرات کی وجہ سے ہم درد کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے ہیں۔

کمر درد کے مریض جب اپنی اس شکایت کے ساتھ کسی بھی قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو زیادہ تر ڈاکٹر ایسی دوائیوں کا استعمال کرواتے ہیں جو درد کو کم کرکے مریض کو عارضی سکون دیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فیزیوتھراپی کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریض عام ڈاکٹروں سے درد کی دوائیں لے کر اپنا وقت گزارتا رہتا ہے۔کمر درد کے وجود میں آنے کی متعدد وجوھات ہو سکتی ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی پر جسم کی دوسری ہڈیوں اور ڈھانچے کا دارومدار ہوتا ہے۔

حقیقتاً یہ ایک ہڈی نہیں ہوتی بلکہ ہڈیوں کا ایک سلسلہ 33 بے قاعدہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو ریڑھ کے مہرے کہلاتے ہیں، ان مہروں کے تین حصے ہوتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کا اصل حصہ 34 مختلف ہڈیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے جو ایک دوسری سے اس طرح بندھی ہیں کہ ان میں لچک پائی جاتی ہے اور ہم اپنی کمر کو آگے پیچھے، جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں، کمر پر بوجھ اٹھانے میں آسانی رہتی ہے اور کوئی جھٹکا لگے تو اس کا اثر دماغ تک نہیں پہنچتا۔

ہر دو مہروں کے درمیان میںڈسک موجود ہوتی ہے جس کا کام ریڑھ کی ہڈی میں ایک طرح سے لچک فراہم کرتے ہوئے مختلف طرح کی ضربات کے اثرات کوزائل کرنا ہوتا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی کے عقب میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس سے حرام مغز متصل ہوتا ہے اور یہاں سے جسم کے مختلف حصوں کو اعصاب کی ترسیل ہوتی ہے۔کمر کے ارد گرد پٹھوں ، لیگامنٹ اور ٹنڈان کا ایک جامع نظام ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔ یہاں پر خون کی نالیوں سے خوراک کی ترسیل ہوتی ہے۔ مندرجہ بالا حصوں میں سے اگر کسی میں بھی خرابی پیدا ہو جائے تو وہ کمر درد کا باعث بن سکتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود نرم حصوں میں کوئی کھچاؤ آ سکتا ہے ، چوٹ لگ سکتی ہے لیکن اگر ہڈی ، عصب یا خون کی نالی اس حصے میں متاثر ہو جائے تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

 وجوہات:

کمر درد کی مختلف ممکنہ وجوھات کا ہم یہاں مختصر طور پر ذکر کریں گے۔

٭ طولانی مدت کے لیے کھڑے رہنا ۔٭ غیر مناسب حالت میں بیٹھنا۔٭ بعض ورزشیں کمر درد کا باعث بن جاتی ہیں۔٭کسی وزنی چیز کو بلند کرنا۔٭غیر مناسب حالت میں جھکنا یا غیر مناسب حالت میں گھومنا ۔٭

یہ بھی ممکن ہے کہ کمر میں کوئی چھوٹی موٹی خرابی موجود ہے مگر یہ اس وقت سامنے آتی ہے جب اس حصے پر پریشر آ جائے۔٭ انفکشن، ٹیومر، ہڈی کا ٹوٹنا یا دوسری چوٹیں کمر درد کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسی حالت میں آرام کرتے ہوئے بھی درد کا احساس ہوتا ہے۔٭بعض اوقات بخار اور وزن میں کمی بھی اس حالت میں لاحق ہو سکتی ہے۔

متعلقہ شخص کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر کسی قریبی فیزیوتھراپسٹ یا کسی دوسرے معالج سے رجوع کرے ۔ بعض عام وجوھات جنکی وجہ سے کمر درر ہو سکتی ہے درجِ ذیل ہیں۔

٭کھنچاؤ اور ہلکے زخم٭موٹاپا٭عمر میں زیادتی۔

مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر اپنے معالج کے پاس جائیں۔

٭ ایسا درد جو شدت کے ساتھ زیادہ ہو رہا ہو٭ ایسا درد جو روز مرہ کے کاموں کو کرنے میں رکاوٹ بن جائے ٭کمزوری، بے حسی، جسم کے کسی حصے کا سن ہونا، پیشاب اور پاخانے میں خرابی۔

 احتیاطی تدابیر:

استعداد سے زیادہ وزنی چیز کو مت اٹھائیں حتی ہلکی چیز کو اٹھاتے ہوئے بھی مناسب طریقے سے اٹھائیں۔ وزن اٹھاتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں۔٭وزن بلند کرنے سے پہلے اپنے جسم کے پٹھوں کو کچھ وقت کے لئے حرکت دیں اور کھینچیں۔٭ کوشش کریں کہ تھوڑی بہت وزنی چیزوں کو جلدی میں نہ اٹھائیں۔

٭ اپنے کندھے سے بلند چیز کو اٹھانے کے لیے سیڑھی کا استعمال کریں۔٭ چیز اٹھانے ہوئے جسم کو اس کے نزدیک کریں، فاصلے سے چیز کو مت اٹھائیں۔٭ دونوں پاؤں کا درمیانی فاصلے کندھوں کے فاصلے کے برابر رکھیں۔٭ چیز کو زمین پر رکھتے ہوئے خم ہونے سے پرہیز کریں اس کی بجائے بیٹھ جائیں اور پھر چیز کو زمین پر رکھیں۔٭ وزنی چیزوں کو ادھر اُدھر منتقل کرتے ہوئے بہتر ہے کہ کسی قریبی فرد سے مدد لے لیں۔

کمر درد میں ورزش کے فائدے:

ورزش اگر درست طریقے سے فیزیوتھراپسٹ ڈاکٹر کے مشوروں کے مطابق کی جائے تو بے حد مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ورزشیں آپ کی کمر درد کو شدید کر دیں۔ اس لئے ورزش شروع کرنے سے پہلے کسی فیزیوتھراپسٹ سے لازمی طور پر رجوع کریں۔

ایسی ورزش جس میں چوٹ لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے کمر درد کے لئے بیحد مفید ہے، مثال کے طور پر پیدل واک ،سائیکل سواری اور تیراکی وغیرہ وغیرہ۔ اگر کمر کے پٹھے جکڑے ہوئے ہوں تو ایسی حالت میں ورزش کرنے سے پہلے گرم پانی سے غسل بے حد مفید ہوتا ہے۔ ورزش کرتے ہوئے لباس کھلا اور آرام دہ پہنیں اور کھیلوں کے لئے مخصوص جوتوں کا استعمال کریں۔ یاد رکھیں ہر وہ ورزش جو باعث درد ہو یا درد میں شدت کا باعث بنے اسے فوری طور پر چھوڑ دیں۔


ایسے مردو خواتین جن کی کمر یا ریڑھ کی ہڈی میں کسی بھی وجہ درد ہوتو وہ یہ درج ذیل نسخہ استعمال کریں ، انشاء اللہ چند دنوں کے استعمال سے پرانے سے پرانا کمردرد بھی ٹھیک ہوجائے گا ۔
نیز یہ نسخہ مردو خواتین کے تمام پوشیدہ امراض میں انتہائی مفید ہے ۔

اس نسخہ کو بنانے کے لیے درج ذیل اجزاء درکار ہیں
اسغن
سفید موسلی
کیکر کی پھلیاں
سورنجان شیرین
کمر کس
بادام
پرانا گڑ (تین سے چار سال پرانا)

بنانے کا طریقہ :
تمام اجزاء کو ہم وزن پیس کرپاؤڈر بنالیں۔

طریقہ استعمال :
صبح و شام نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔

یہ نسخہ وزن کے حساب سے استعمال کرنا ہے جیسے
50کلوتک جن کا وزن ہے وہ آدھ چائے کا چمچ استعمال کریں ۔
65کلوتک جن کا وزن ہے وہ ایک چائے کا چمچ استعمال کریں ۔
65کلو سے زائد وزن والے ایک کھانے کا چمچ استعمال کریں۔




پیر، 6 جولائی، 2020

ایک سچی کہانی ایک ایسے شخص کی جس نے ایک نماز پڑھنے والے شخص سے دریافت کیا کہ کیا ہوگا اگر مرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوکہ نہ ہی جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کوئی سزا اور جزا ہے پھر تم کیا کروگے۔۔۔

ایک سچی کہانی ایک ایسے شخص کی جس نے ایک نماز پڑھنے والے شخص سے دریافت کیا کہ کیا ہوگا اگر مرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوکہ  نہ ہی جنت  و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کوئی سزا اور جزا ہے پھر تم کیا کروگے۔۔۔ ؟
اس کا جو جواب ملا وہ بہت ہی حیران کن اور تعجب خیز ہے لیجئے پوری کہانی آپ کے پیش 
:خدمت ہے


   کہتے ہیں سنہ 2007 کی بات ہے لندن کے ایک عربی ریسٹورینٹ میں ہم لوگ مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے ڈنر کےلئے داخل ہوئے 
 ہم لوگ ہوٹل میں بیٹھے اور ویٹر آڈر لینے کے لئے آگیا میں نے مہمانوں سے چند منٹ کے لئے اجازت طلب کی اور پھر واپس آگیا اتنے میں مہمانوں میں سے ایک شخص نے سوال کیا ڈاکٹر صاحب آپ کہاں گئے تھے آپ نے تو بڑی تاخیر کردی کہاں تھے۔۔۔؟
میں نے کہا ! میں معذرت خواہ ہوں  در اصل میں نماز پڑھ رہا تھا 
اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپ اب تک نماز پڑھتے ہیں۔۔؟ میرے بھائی آپ تو قدامت پسند ہیں 
میں نے بھی مسکراتے ہوئےپوچھا قدامت پسند۔۔؟ وہ کیوں ؟ کیا اللہ تعالی صرف عربی ممالک میں ہے، لندن میں نہیں ہے؟
اس نے کہا!  ڈاکٹرصاحب میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جس کشادہ ظرفی کیلئے معروف ہیں اسی  کشادہ قلبی سے مجھے تھوڑا سا برداشت کریں گے
میں نے کہا: جی مجھے تو بڑی خوشی ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے 
اس نے کہا !  جی فرمائیں 
میں نے کہا !  اپنے سوالات مکمل کرلینے کے بعد تمہیں ہار یا جیت کا اعتراف کرنا پڑے گا ٹھیک ہے۔۔۔ ؟
اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور یہ  رہا میرا وعدہ 
میں نے کہا !  چلو بحث شروع کرتے ہیں ۔۔۔ فرمائیں۔۔۔!
اس نے کہا !  آپ کب سے نماز پڑھ رہے ہیں۔۔۔؟ 
میں نے کہا سات سال کی عمر سے میں نے اس کو سیکھنا شروع کیا اور نو سال کی عمر میں پختہ کرلیا تب سے اب تک کبھی نماز نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی ان شاء اللہ نہیں چھوڑوں گا۔ 
اس نے کہا ٹھیک ہے۔۔۔!  مرنے کے بعد اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ نہ جنت و جہنم کا وجود ہے نہ  ہی کو ئی جزا وسزا  ہے پھر آپ کیا کروگے ۔۔۔؟
میں نے کہا !  تم سے کئے گئے عہد کے مطابق پوری کشادہ قلبی سے تمہارے سوالات کا آخر تک جواب دوں گا۔
فرض کریں نہ ہی جنت وجہنم کا وجود ہوگا نہ ہی کوئی جزا وسزا ہوگی تو میں ہرگز ہی کچھ نہ کروں گا اس لئے کہ  در اصل میرا معاملہ ایساہی ہے جیسا کہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔۔۔!
  "الہی میں نے تیرے عذاب کے خوف اور جنت کی آرزو میں تیری عبادت نہیں کی ہے بلکہ میں نے اس لئے تیری عبادت کی ہے کیونکہ تو عبادت کے لائق ہے۔
اس نے کہا ! اور آپ کی وہ نمازیں جس کو دسیوں سال سے آپ پابندی کے ساتھ پڑھتے آرہے ہیں پھر آپکو معلوم ہو کہ نمازی اور بے نماز دونوں برابر ہیں جہنم نام کی کوئی چیز نہیں ہے پھر کیا کریں گے 
میں نے کہا !  مجھے اس پر بھی کچھ پچھتاوا نہیں ہوگا کیونکہ کہ ان  نمازوں  کو ادا کرنے میں مجھے صرف چند منٹ ہی لگتے ہیں چنانچہ میں انھیں جسمانی ورزش  سمجھوں گا
 اس نے کہا !  اور روزہ خصوصاً لندن میں کیونکہ یہاں روزے کا وقفہ ایک دن میں 18گھنٹے سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔۔۔ ؟
میں نے کہا !  میں اسے روحانی ورزش سمجھوں گا چنانچہ وہ میری روح اور نفس کے لئے اعلی طرز کی ورزش ہے اسی طرح اس کے اندر صحت  سے جڑے بہت سارے  فوائد بھی ہیں جس کا فائدہ میری زندگی ہی میں مجھے مل چکا ہے اور  کئی  بین الاقوامی غیر اسلامی اداروں کابھی یہ ماننا ہے کہ کچھ وقفے تک کھاناپینا بند کرنا جسم کیلئے بہت مفید اور نفع بخش ہے۔
اس نے کہا !  آپ نے کبھی شراب پی ہے۔۔۔؟
میں نے کہا !  میں نے اس کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا 
اس نے تعجب سے کہا ! کبھی نہیں۔۔۔؟ 
میں نے کہا ! کبھی نہیں۔
اس نے کہا ! اس زندگی میں اپنے آپ کو شراب نوشی کی لذت اور اس کے خمار  کے سرور سے محرومی کے بارے میں کیا کہیں گے اگر آپ لئے وہی ظاہر ہوا جو میں نے فرض کیا ہے۔۔۔؟ 
میں نے کہا ! شراب کے  اندر  نفع  سے زیادہ  نقصان  ہے اور  میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنے آپ کو اس  نقصان دہ چیز سے بچالیا ہے اور  اپنے  نفس  کو اس سے دور رکھا ہے چنانچہ  کتنے  ہی لوگ ایسے ہیں جو  شراب کی وجہ سے بیمار ہوگئے اور  کتنے ہی  ایسے ہیں جنھوں نے شراب کی وجہ سے اپنا گھربار  مال  واسباب سب تباہ وبرباد کرلیا ہے۔ 
 اسی طرح  غیر اسلامی اداروں کےعالمی رپوٹ کو دیکھنے سے  بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی شراب کے اثرات اور اس کو لگاتار پینے کے انجام سے متنبہ کرتی ہے۔
اس نے کہا ! حج وعمرہ کا سفر ، جب موت کے بعد آپ کو معلوم ہوگا  کہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی موجود نہیں ہے۔۔۔؟ 
میں نے کہا ! میں عہد کے مطابق چلوں گا اور  پوری کشادہ ظرفی سے تمہارے سوالات کا جواب دوں گا۔
میں حج وعمرہ کے سفر کو ایک خوبصورت  تفریحی سفرسے تعبیر کرونگا جس کے اندر  میں نے حد درجے کی فرحت وشادمانی محسوس کی اور اپنی روح کوآلائشوں سے پاک و صاف کیا جس طرح تم نے اپنے اس سفر کے لئے کیا ہے تاکہ تم ایک اچھا وقت گزار سکو اور اپنے عمل کے بوجھ اور معمولات زندگی کی تھکان کو دور کرکے اپنی روح کو تازگی فراہم کرسکو۔
    وہ میرےچہرے کو کچھ دیر  تک خاموشی سے دیکھتا رہا پھر گویا ہوا ! ”آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے سوالات کو بڑی کشادہ قلبی کے ساتھ برداشت کیا۔“
میرے سوالات ختم ہوئے اور میں آپ کے سامنے اپنی ہار تسلیم کرتا ہوں۔
میں نے کہا ! تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ہار تسلیم کرنے کے بعد میرے دل کی کیا کیفیت ہوگی۔۔۔ ؟
اس نے کہا :یقیناً آپ بہت خوش ہوں گے 
میں نے کہا ! ہرگز نہیں بلکہ اس کے بلکل الٹا۔۔۔میں بہت دکھی ہوں 
اس نے تعجب سے کہا ! دکھی۔۔۔ ؟کیوں۔۔۔؟
میں نے کہا !  اب تم سے سوال کرنے کی میری باری ہے 
اس نے کہا ! فرمائیں۔۔۔۔!
میں نےکہا: تمہاری طرح میرے پاس ڈھیر سارے سوالات نہیں ہیں صرف ایک ہی سوال ہے وہ بھی بہت سادہ اور آسان 
اس نےکہا :وہ کیا ؟
میں نے کہا :میں نے تمہارے سامنےواضح کردیا ہے کہ تمہارے مفروضہ کے واقع ہونے کے بعد بھی میں کسی طرح کے گھاٹے میں نہیں ہوں اور نہ ہی اس میں میرا کسی قسم کا نقصان ہے ، لیکن میرا وہ ایک آسان  سوال یہ ہے کہ تمہارا اس وقت کیا ہوگا اگر حالات تمہارے مفروضہ کےبرعکس ظاہر ہوئے یعنی موت کے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اللہ  تعالی بھی موجود ہے جنت و جہنم بھی ہے سزا وجزا بھی ہے اور قرآن کے اندر بیان کئے گئے سارے مشاہد و مناظر بھی ہیں پھر تم  اسوقت کیا کروگے۔۔۔ ؟
      وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی کے ساتھ دیر تک دیکھتا رہا ، اور پھر ویٹر نے ہماری میز پر کھانا رکھتے ہوئے ہماری خاموشی کو توڑا 
میں نے اس سے کہا ! مجھے ابھی جواب نہیں چاہئے کھانا حاضر ہے ہم کھانا کھائیں اور جب تمہارا جواب تیار ہوجائیگا توبراہ مہربانی  مجھے خبر کردینا ہم کھانے سے فارغ ہوئے اور مجھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں نے بھی اس وقت اس کو جواب کے لئے کوئی تکلیف نہیں دی ۔۔۔ ہم بہت ہی سادگی کے ساتھ جدا ہوگئے 
ایک مہینہ گزرنے کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور اسی ریسٹورینٹ میں ملاقات کا مطالبہ کیا۔
ریسٹورینٹ میں ہماری ملاقات ہوئی ہم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا کہ اچانک اس نےمیرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر مجھے اپنی باہوں میں پکڑ کر رونے لگا، میں نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا اور پوچھا کیا بات ہے تم کیوں رو رہے ہو۔۔۔؟
اس نے کہا ! میں یہاں آپ کا شکریہ ادا کرنے اور اپنے جواب سے آپ کو باخبر کرنے لئے آیا ہوں 
بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک  نماز سے دور رہنے کے بعد اب میں نماز پڑھنے لگا ہوں آپ کے جملوں کی صدائے بازگشت میرے ذہن ودماغ میں بلا توقف گونجتی ہی رہی اور میں نیند کی لذت سے محروم  ہوتا رہا۔ 
آپ نے میرے دل ودماغ اور  جسم  میں آتش فشاں چھوڑ دیا تھا اور وہ میرے اندر اثر کر گیا 
مجھے احساس ہونے لگا کہ جیسے میں کوئی اور انسان ہوں اور ایک نئی روح میرے جسم کے اندر حرکت کر رہی ہے ایک بے مثال قلبی سکون بھی محسوس کر رہا ہوں۔ 
میں نے کہا :ہوسکتا ہے جب  تمہاری بصارت نے تمہاراساتھ  چھوڑ دیا  ہو تب ان جملوں نے تمہاری بصیرت کو بیدار کردیا ہو۔
اس نے کہا ! بالکل ایسا ہی ہے ، یقینا  جب میری بصارت  نے میرا ساتھ چھوڑ دیا توان جملوں نے میری بصیرت کو بیدار کر دیا۔

دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟

  دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) آج کل کیوں زیادہ ہو رہے ہیں؟ تعارف دل کا دورہ ایک جان لیوا بیماری ہے جو پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہ...